|
مدینے میں یہ ہوتے ہیں
مدینے میں یہ ہوتے ہیں
مدینے میں یہ ہوتے ہیں یہاں پر یہ نہیں ہوتے
دیوانے بارہویں کی شب نہیں سوتے نہیں سوتے
خیالوں کا سفر اِن کو مدینے لے کے جاتا ہے
نبی کی یاد سے غافل یہ اِک پَل بھی نہیں ہوتے
مدینے میں یہ ہوتے ہیں یہاں پر یہ نہیں ہوتے
دیوانے بارہویں کی شب نہیں سوتے نہیں سوتے
یہ جن کے صدقے کھاتے ہیں اِنہی کے گُن یہ گاتے ہیں
کِسی بھی غیر کے در پر نہیں جُھکتے نہیں روتے
مدینے میں یہ ہوتے ہیں یہاں پر یہ نہیں ہوتے
دیوانے بارہویں کی شب نہیں سوتے نہیں
اِنہیں حسنین سے اُلفت ہے اُنکے نانا سے اُلفت
ہیں پنجتن پاک کے عاشق کسی سے یہ نہیں ڈرتے
مدینے میں یہ ہوتے ہیں یہاں پر یہ نہیں ہوتے
دیوانے بارہویں کی شب نہیں سوتے نہیں
درودِ پاک پڑھتے ہیں سلام اُن کو یہ کرتے ہیں
یہ رحمت پائے جاتے ہیں تیری طرح نہیں کھوتے
مدینے میں یہ ہوتے ہیں یہاں پر یہ نہیں ہوتے
دیوانے بارہویں کی شب نہیں سوتے نہیں
ذرہ دیکھو تو دیوانے پُکاریں مرحبا آقا
یہ اُن کے جشنِ آمد سے کبھی غافل نہیں ہوتے
مدینے میں یہ ہوتے ہیں یہاں پر یہ نہیں ہوتے
دیوانے بارہویں کی شب نہیں سوتے نہیں
دیوانوں میں دیوانہ عابدی بھی ہے یہیں شاید
جو کہتا پھر رہا ہے آج کی شب ہم نہیں سوتے
مدینے میں یہ ہوتے ہیں یہاں پر یہ نہیں ہوتے
دیوانے بارہویں کی شب نہیں سوتے نہیں
|