|
غریب ہیں تو کیا ہوا
غریب ہیں تو کیا ہوا
غریب ہیں کیا ہوا روٹی کم کچھ کھائیں گے لعل پہ تو جائیں گے
بڑا لجپال ہے جھولی بھر کے لائیں گے لعل پہ تو جائیں گے
سہون کا شہنشاہ سب کی سُنتا ہے صدا میں بھی مانگوں گا دُعا
سارے دُکھ سال کے مولا کو بتلائیں گے لعل پہ تو جائیں گے
علی کا لعل ہے میرا یہ ایمان ہے لعل پہ قربان ہے لعل پہ تو جائیں گے
علی والے چلو دل کے مطلب پائیں گے لعل پہ تو جائیں گے
غریب ہیں کیا ہوا روٹی کم کچھ کھائیں گے لعل پہ تو جائیں گے
بڑا لجپال ہے جھولی بھر کے لائیں گے لعل پہ تو جائیں گے
گدا گر بن کے میں گوہؔر گدائی جاؤں گا حال دل کا سُناوں گا
مُجھے ہے بھروسہ بگڑی سب کی بنائیں گے لعل پہ تو جائیں گے
غریب ہیں کیا ہوا روٹی کم کچھ کھائیں گے لعل پہ تو جائیں گے
بڑا لجپال ہے جھولی بھر کے لائیں گے لعل پہ تو جائیں گے
|