|
اے میرے سردار﴿ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم﴾میرا ساته دینا اس مشکل سفر میں،
جس وقت میرے لاش کو،اٹهانے والے،قبر میں اتار کر جائیں،
سکرات کے وقت بهی آپ ﴿سب سے﴾پهلے ﴿همیں﴾دیکهنے آتے هیں،
اے میرے میٹهے آقا،﴿بس﴾ یه نوکر بهی مزار تک آپ کی نظر میں رهے،
میرے عزیز و اقارب ﴿میرے پاس سے﴾ گذریں گے اور میرے لاش کو خود دفن کریں گے،
هچکیان بهر کر آخرکار اکیلے گهر﴿قبر﴾ میں ڈالیں گے
آج مشکل کی گهڑی آئی هے،او لجپال﴿تهوڑی دیر کیلئے﴾میری طرف آنا
﴿مجه﴾ بدکار کی کشتی سمندر میں ڈوبنے کے قریب کهڑی ہے
میرا مکهنا فقیر﴿مکهنو فقیر/شاعر﴾﴿کیا اس وقت ﴾آپ کے بغیر﴿اکیلا﴾هوگا اے میرے حبیب؟
اے میرے آقا،آپ کا غلام اور فقیر اسی فکر میں هے
|