|
ہر ذرہ جگمگایا ہے کہ نور والا آیا ہے
ہر ذرہ جگمگایا ہے کہ نور والا آیا ہے
ہر سو اجالا چھایا ہے کہ نور والا آیا ہے
تھی منتظر یہ دنیا جس شاہ والا کی
جن و بشر نے گایا ہے کہ نور والا آیا ہے
ہر ذرہ جگمگایا ہے کہ نور والا آیا ہے
ہر سو اجالا چھایا ہے کہ نور والا آیا ہے
ٹھہری ہوئی تھیں ندیاں جو آج چل پڑی ہیں
بارہ ربیع الاول کو نور والا آیا ہے
ہر ذرہ جگمگایا ہے کہ نور والا آیا ہے
ہر سو اجالا چھایا ہے کہ نور والا آیا ہے
گھر گھر چراغاں کر لو آمد ہے آقا کی
ہر دل نے خوشی سے گایا ہے کہ نور والا آیا ہے
ہر ذرہ جگمگایا ہے کہ نور والا آیا ہے
ہر سو اجالا چھایا ہے کہ نور والا آیا ہے
یہ آج خوشیوں کا موسم ہے عرش و فرش پر
نعرے لگے ہیں آمد کے ہاں نور والا آیا ہے
ہر ذرہ جگمگایا ہے کہ نور والا آیا ہے
ہر سو اجالا چھایا ہے کہ نور والا آیا ہے
طیبہ کا چاند چمکا جو رہبر ہے ہم سب کا
آقا کو ہم نے پایا ہے کہ نور والا آیا ہے
ہر ذرہ جگمگایا ہے کہ نور والا آیا ہے
ہر سو اجالا چھایا ہے کہ نور والا آیا ہے
کر خوش سخن علی کو اے ربِ ذوالجلال
جس نے لگایا نعرہ ہے کہ نور والا آیا ہے
ہر ذرہ جگمگایا ہے کہ نور والا آیا ہے
ہر سو اجالا چھایا ہے کہ نور والا آیا ہے
|