farhan ali qadri
Home | Video | Audio | Albums | Latest Album | Gallery | Forum | Guest Book | Search | Tell A Friend | Contact
Title Bookmark and Share farhan ali qadri


Farhan Ali Qadri - Farhan Ali Qadri Ummrah Report
       Farhan Ali Qadri Ummrah Report

فرحان علی قادری کے دوسرے سفرِعمرہ (16 جولائی تا 4 اگست ) کی تفصیلی رپورٹ

آئیے فرحان علی قادری کے دوسرے عمرہ کی ادائیگی کی تفصیلی روداد پڑھنے سے پہلے ذہنوں میں ایک تصور لائیں۔سن 2006 گیارہ سال کا ایک معصوم بچہ اُس دربارِ عالی کی حاضری دینے جا رہا ہے جو کُل جہانوں کا مالک ہے جس کے دربار میں حاضری کے لیے آنے سے پہلے ہی سب فرق مِٹا دیے جاتے ہیں۔ نہ کوئی ادنیٰ رہتا ہے نہ عالیٰ نہ کوئی گورا رہتا ہے نہ کالا نہ کوئی عربی رہتا ہے نہ عجمی بس سب اُس کے بندے بن کر آتے ہیں اور اُن سب کا لباس بھی ایک سا ہو جاتا ہے۔ دو عدد سادہ سُفید چادریں اوڑھے یہ معصوم بچہ بھی اپنی چمکتی اور متجسس آنکھوں کے ساتھ اُس کے دربار کی حاضری کے لیے آرہا ہے اور اُسنے اپنے بڑوں سے سُن رکھا ہے کہ جب اللہ کے گھر پر پہلی نظر پڑتی ہے تو جو دُعا مانگو وہ قبول ہوتی ہے وہ اِس انتظار میں ہے کہ کب اُس کے آنکھوں کے سامنے اللہ تبارک و تعالیٰ کا گھر آئے اور وہ اپنے دِل کی آرزو کو زُبان پر لائے اور پھر وہ لمحہ آگیا جب خانہ خُدا پوری جاہ و ہشمت اور پورے رُعب و جلال کے ساتھ اُس بچے کی نظروں کے سامنے تھا بِلا تاخیر اُس کے ہاتھ بُلند ہوئے اور وہ بارگاہِ خُداوندی میں اِلتجا کرنےلگا کہ یا اللہ اِ س مُبارک گھڑی میں میں تُجھ سے بس ایک ہی التجا کرتا ہوں کہ اِس بار تو حاضری کے لیے میں اپنی والدہ کے ساتھ نہیں آسکا اگلی بار میں جب تیرے دربار میں حاضر ہوں تو میری والدہ میرے ساتھ ہوں۔ آمین۔ جی ہاں پوری دُنیا میں عشاقانِ رسول ﷺ کے دِلوں پر راج کرنے والا وہ معصوم بچہ فرحان علی قادری ہی تھا۔

اور اب لوٹ کے آئیں 16 جولائی 2012 جیکب آباد فرحان علی قادری کے گھر سب قریبی رشتہ دار اور دوست احباب جمع ہیں فرحان علی قادری اپنی والدہ کے ہمراہ عمرہ اورمدینہ پاک کی حاضری کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔ اُن کی 6 سال پُرانی معصومیت بھری دُعا کی قبولیت کا وقت آ گیا تھا۔ اور خُدا کی قدرت کہ اِس مرتبہ فرحان کے ساتھ اُن کی والدہ کے علاوہ کوئی بھی نہیں جا رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اللہ پاک نے اپنے دستِ غیب سے ایسا بندوبست کیا ہو کہ وہ اکیلے اپنی والدہ کی خِدمت کریں کوئی اور اِس خِدمت میں اُنکے ساتھ شریک نہ ہو۔ گھر میں جمع ہونے والے سب افراد فرحان اور اُن کی والدہ کو بار بار دعا اور سلام پیش کرنے کے لیے یاد دہانی کروا رہے تھے۔ فرحان سب کو یقین دِلا رہے تھے کہ وہ کسی کو نہیں بھولیں گے، انشاللہ وہ سب کا سلام بھی پیش کریں گے اُن کی حاضری جلدی ہو اِس بات کی دعا بھی کریں گے ۔

دوپہر ایک بجے کے قریب وہ اپنی گاڑی میں کراچی کے لیے روانہ ہو گئے رات کراچی میں آرام کیا۔ اگلے دن 17 جولائی کو عمرہ کی ادائیگی اور سفر کے لئے کُچھ ضرورت کی چیزیں نئے کپڑے، احرام، چپلیں اور سفری بیگ وغیرہ خریدیں اور رات تک اپنے بیگ تیار کر لئے۔

اگلے دِن 18جولائی کو اُن کی روانگی تھی اور ائیر پورٹ جانے سے پہلے ایک مرتبہ پھر اپنا سامان چیک کیا کہ کوئی فالتو چیز تو نہیں جس کی وہاں ضرورت نہ پڑے اور بِلا وجہ زیادہ وزن ساتھ لے جائیں وہ کم سے کم وزن ساتھ لے جانا چاہتے تھے تاکہ وہاں سے واپسی کے وقت اُن کے پاس تحائف، تبرکات اور وہاں سے خریدے گئے دیگر سامان کے لئے گنجائش باقی رہے اور وہ ائیر لائن کی طرف سے مخصوص کردہ وزن سے زیادہ سامان ہونے کی صورت میں کسی پریشانی کا شکار نہ ہوں۔

عمرہ کی حاضری کے لئے جانے والوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ائیر پورٹ اپنی پرواز سے 4 گھنٹے پہلے پُہنچ جائیں۔ فرحان بھی مقررہ وقت پر ائیر پورٹ پہنچ گئے اور قطار میں لگ کر اپنا سامان کاونٹر پر موجود افسر کے پاس جمع کروایا اور بورڈنگ کارڈ لے کر انتظار گاہ میں اپنی والدہ کے ساتھ جا کر بیٹھ گئے۔

ہم آپ کو قدم قدم فرحان علی قادری کے ساتھ لیے چلیں گے۔ اور اُن پڑھنے والوں کی دلچسپی کی خاطر جنہیں ابھی حج یا عمرہ کی سعادت نصیب نہیں ہوئی دیگر بُنیادی معلومات اور مخصوص دعاؤں کے بارے میں بھی بتاتے رہیں گے۔ عمرہ کی تعریف آپ ان الفاظ میں کر سکتے ہیں کہ مقررہ دنوں (یعنی اَیّامِ حج) کے علاوہ مخصوص عبادات کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کے گھر کی زیارت کرنے کو عمرہ کہتے ہیں یعنی میقات سے احرام باندھنا، دو نفل نماز پڑھنا اور عمرہ کی نیت کے بعد تلبیہ، طواف، سعی اور حلق کرانا عمرہ کہلاتا ہے۔ عمرہ کے دو فرائض ہیں حدودِ حرم کے باہر سے احرام باندھنا اور طواف ۔ عمرہ کےدو ہی واجبات ہیں صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا اور حلق (سر کے بال منڈوانا) یا قصر (سر کے بال کم کرنا)۔ خواتین سر کے پیچھے کے بالوں میں سے صرف ایک پور کے برابر بال اُترواتی ہیں۔ فرائض چھوٹنے کی صورت میں عمرہ باطل ہو جاتا ہے اور واجِبات چھوٹنے کی صورت میں بکرا بطور دم دینا پڑتا ہے۔

احرام باندھنے سے قبل جسم کی ظاہری صفائی کا خاص طور پر اہتمام کرنا چاہیے ناخن تراشیں، زیر ناف اور بغل کے بال صاف کریں، مونچھیں اور داڑھی درست کریں اس کے بعد جسم کو اچھی طرح مَل کر نہائیں۔ خوشبو لگائیں پھر مرد سلا ہوا کپڑا اتار کر بغیر سلی ہوئی ایک چادر کا تہہ بند ناف کے اوپر سے باندھتے ہیں اور ایک چادر کندھوں سے اوڑھ لیتے ہیں، سر ننگا رکھنا ہوتا ہے اور دونوں بازو ڈھانپ لیے جاتے ہیں۔ خواتین اپنے کپڑوں یا عبایا میں ہی احرام کی نیت کرتی ہیں۔ عام طور پر سعودی عرب جانے والی پروازوں کے دوران مقامِ میقات آنے سے قبل باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے کہ جو لوگ عمرہ کی نیت سے سفر کر رہے ہیں وہ احرام باندھ لیں۔ اکثر لوگ احرام جہاز میں سوار ہونے سے قبل ہی باندھ لیتے ہیں اور اُس میں زیادہ آسانی رہتی ہے اسطرح نفل آرام سے پڑھ سکتے ہیں اور جہاز میں لمبی قطار میں لگنے اور مقام میقات گزر جانے کا کوئی خدشہ نہیں رہتا۔ فرحان بھی کراچی سے احرام باندھ کر ہی جہاز میں سوار ہوئے تھے۔

فرحان نے احرام باندھا دو رکعت نماز احرام کی نیت سے ادا کی اور اللہ پاک کی بارگا ہ میں عرض کرنے لگے

اَللَّهُمَّ نَوَيْتُ الْعُمْرَة وَاحْرَمْتُ بِه فَتَقَبَّلْه‘ مِنِّیْ

الہٰی میں عمرہ کی نیت کرتا ہوں اور میں نے احرام باندھ لیا ہے اسے میری طرف سے قبول فرما۔

احرام کی نیت باندھنے کے فوراً بعد مرد سر ننگا کر کے اور عورتیں سر ڈھانپ کر نیت کرتے ہیں۔ عمرہ کی نیت کے مسنون الفاظ یہ ہیں

اَللَّهُمَّ اِنِّیْ اُرِيْدُ الْعُمْرَة فَيَسِّرْهَالِیْ وَتَقَبَّلْهَا مِنِّیْ وَاَعِنِّیْ عَلَيْهَا وَبَارِکْ لِیْ فِيْهَا نَوَيْتُ الْعُمْرَة وَاَحْرَمْتُ بِهَا ِﷲِ تَعَالٰی

اے اﷲ میں نے عمرہ کا ارادہ کیا اس (کی ادائیگی) کو میرے لئے آسان فرما اور مجھ سے قبول کر لے اور اس کے ادا کرنے میں میری مدد فرما۔ اور اِس میں میرے لئے برکت عطا فرما۔ میں نے عمرہ کی نیت کی اور اس کے ساتھ اﷲتعالیٰ کے لئے احرام باندھا۔

نیت کرتے ہی مرد ذرا بلند آواز سے جبکہ خواتین آہستہ آواز سے تین بار تلبیہ کے کلمات ادا کرتے ہیں ، تلبیہ کے الفاظ یہ ہیں

لَبَّيْکَ اَللَّهُمَّ لَبَّيْکَ، لَبَّيْکَ لاَ شَرِيْکَ لَکَ لَبَّيْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَة لَکَ وَالْمُلْکَ، لاَ شَرِيْکَ لَکَ

میں حاضر ہوں، یااﷲ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لئے ہیں اور ملک بھی، تیرا کوئی شریک نہیں۔

فرحان بھی اللہ کی بارگاہ میں تلبیہ کی صدا بُلند کرنے لگے اور ہر بار جب وہ لبیک کہتے تو اُنہیں ایسا لگتا گویا اُن کا رشتہ دُنیا سے کٹتا جا رہا ہو اور اللہ سے لو لگتی جا رہی ہو اپنے اردگرد سے آنے والی دیگر لبیک کی صدائیں بھی دل کی دُنیا بدلنے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ اور چند لمحات میں اُنہیں ایسا محسوس ہونے لگا گویا وہ دُنیا کو کہیں پیچھے چھوڑ آئے ہوں اور اللہ کی پناہ میں اور اُسی کی حضوری میں آ گئے ہوں۔

تلبیہ کے بعد اُنہوں نے درود شریف پڑھا اور اِن الفاظ میں دوبارہ دُعا کرنے لگے

اَللّٰهُمَّ إنِّیْ اَسْئَلُکَ رِضَاکَ وَالْجَنَّة وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ غَضَبِکَ وَالنَّارِ

اے اﷲ میں آپ سے آپ کی رضا اور جنت مانگتا ہوں اور آپ کی ناراضگی اور جہنم سے آپ ہی کی پناہ چاہتا ہوں۔

جہاز کے سارے سفر کے دوران وہ درود شریف پڑھنے میں مصروف رہے اور کبھی دھیمی آواز کے ساتھ اور کبھی خاموشی کے ساتھ اللہ پاک سے انتہائی عاجزی کے ساتھ دعائیں کرتے رہے اور معافی طلب کرتے رہے ایسے میں بس اُن کے ہونٹ ہلتے نظر آتے جیسے اپنے رب کے ساتھ کُچھ راز و نیاز کر رہے ہوں یا آئندہ زندگی اُس کی رضا کے مطابق گُزارنے کے عہد و پیمان کر رہے ہوں۔ اِس دوران وقفے وقفے سے وہ اپنی والدہ کا حال احوال بھی پوچھ لیتے کہ وہ آرام سے ہیں اُنہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔اور انہوں نے اپنی والدہ کو پہلی مرتبہ بتایا کہ جب وہ 2006 میں عمرہ کی حاضری پر گئے تھے تو کعبہ شریف پر پہلی نظر پڑتے ہی یہ دُعا مانگی تھی کہ میری اگلی حاضری میری والدہ کے ساتھ ہو اور یہ بات اُنہوں نے آج تک کسی کو نہیں بتائی تھی۔ فرحان علی کی ہر سال شدید خواہش ہوتی ہے کہ وہ عمرہ کی سعادت حاصل کریں اور سرکارِ دو عالم کی بارگاہ میں حاضری دیں خصوصاً رمضان شریف میں۔ لیکن گزشتہ 5 سالوں میں کسی نہ کسی بہانے کی آڑ میں اُن کا پروگرام بنتا بنتا بگڑ جاتا تھا ۔ آج اُنہیں سمجھ آرہی تھی کہ اُن کا پروگرام بننے کی ایک ہی صورت مُمکن تھی کہ وہ اور اُن کی والدہ سفرِ عمرہ پر ایک ساتھ روانہ ہوں جیسے صرف اِس بات کا اِنتظارہو رہا تھا کہ وہ اِس قابل ہو جائیں کے اکیلے اپنی والدہ کے ساتھ عمرہ کا سفر کر سکیں۔ یہ راز آج اُن پر آشکار ہو گیا تھا کہ اتنے سال حاضری کا پروگرام نہ بن سکنے میں اللہ پاک کی کیا مصلحت اور حکمت تھی۔فرحان ایک مرتبہ پھر عاجزی اور انکساری کے ساتھ درودِ پاک پڑھنے لگے۔

جب وہ جدہ ائیر پورٹ پہنچے تو اس وقت صبح کے تقریباً سوا دو کا وقت تھا ۔ جولائی کی 19 اور شعبان ِ معظم کی 29 تاریخ جمعرات کا دن ۔ رمضان المبارک شروع ہونے میں صرف ایک دن باقی تھا۔ باہر نکلنے سے پہلے وہاں وزارتِ حج و عمرہ سعودی عرب اور عمرہ کا انتظام کرنے والی کمپنیوں کے نمائندے موجود تھے ، جِنہوں نے پاسپورٹ اپنے پاس رکھ لیا اور کُچھ ہی دیر بعد ایک قطار میں سب کو وبائی امراض سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلائے جانے لگے۔

جدہ ائیر پورٹ کے باہر فرحان علی قادری جِس کمپنی کے انتظام پر عمرہ کی ادائیگی کے لیے حاضر ہوئے تھے اُس کمپنی کی گاڑی اُن کے 11 افراد کے گروپ کو جدہ سے مکہ معظمہ لے جانے کے لئے تیار کھڑی تھی۔ یہ ٹویوٹا کمپنی کی ایک آرام دہ ائیر کنڈیشنڈ ہائی ایس ویگن تھی۔ جس میں حرمِ مکہ کی جانب سفر شروع ہوا۔

حرمِ مکہ میں فرحان یہ دُعا پڑھتے ہوئے داخل ہوئے

اَللّٰهُمَّ اِنَّ هٰذَا حَرَمُکَ وَحَرَمَ رَسُوْلِکَ فَحَرِّمْ لَحْمِیْ وَدَمِیْ وَعَظَمِیْ عَلٰی النَّارِ اَللَّهُمَّ اٰمِنِّیْ مِنْ عَذَابِکَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ وَاجْعَلْنِی مِنْ اَوْلِيَآئِکَ وَاَهْلِ طَاعَتِکَ وَتُبْ عَلَّی اِنَّک اَنْتَ التَّوَابُ الرَّحِيْمُ

اے اﷲ یہ تیرا اور تیرے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حرم ہے پس میرے گوشت، خون اور ہڈیوں کو آگ پر حرام کر دے۔ اے اﷲ ! مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھ۔ جس روز تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا اور مجھے اپنے ولیوں اور اطاعت گزاروں میں شامل کردے اور مجھ پر نظرِ کرم فرما۔ بے شک تو توبہ قبول کرنے والا (اور) بڑا رحم کرنے والا ہے۔

مسجدِ حرام میں جانے سے پہلے فرحان اور ان کی والدہ نے ہوٹل میں اپنا سامان رکھا تازہ وضو کر کے جسم کو پاک اور صاف کیا اور روح کی پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے لبیک لبیک کی صدائیں بُلند کرتے ہوئے پہلے عمرہ کی ادائیگی کے لئے حرم شریف روانہ ہو گئے۔

بِسْمِ اﷲِ وَالصَّلٰوة وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ

پڑھتے ہوئے سیدھا پاؤں پہلے اندر رکھتے ہوئے فرحان حرم پاک میں داخل ہوئے اور ساتھ میں یہ نیت کی کہ اے اﷲ! میں جتنی دیر اس مسجد میں رہوں اتنی دیر کے لئے اعتکاف کی نیت کرتا ہوں۔

اب 6 سال بعد پھِر وہی مُبارک گھڑی آ پہنچی تھی جِس گھڑی میں کی گئی دُعا کی برکت سے فرحان آج اپنی والدہ کے ساتھ حرمِ کعبہ میں موجود تھے۔ بیت اللہ پر پہلی نظر پڑ چُکی تھی حواس ساتھ چھوڑ رہے تھے جِنہیں فرحان بڑی مُشکل سے مُجتمع کر رہے تھے رُعبِ کعبہ سے فرحان گویا دبے جا رہےتھے، اُنہیں اپنا آپ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کُل کائنات میں سب سے حقیر ہیں اور کائنات میں ہر سو بس ربِ کعبہ کی تجلیات ہیں اور اُن تجلیات کی بارش میں بھیگتے فرحان کے ہاتھ دُعا کے لئے پھر بُلند ہوئے اور اُن قبولیت کے خاص لمحات میں وہ دُعا کرنے لگے، اے میرے اللہ جب میرا وقتِ آخر آئے تو مُجھے اس حالت میں دُنیا سے اُٹھانا کہ مُجھے کلمہ نصیب ہو اور میری موت پُختہ ایمان کی حالت میں ہو ۔آمین۔

اب عمرہ کے دوسرے فرض کی ادائیگی کا وقت تھا یعنی طوافِ کعبہ۔ طواف سے قبل مرد حضرات اضطباع کرتے ہیں یعنی اپنا سیدھا بازو چادر سے باہر نکال لیتے ہیں۔ اضطباع کے بعد حجر اسود کی سیدھ میں بنی ہوئی فرش کی کالی پٹی کے بائیں طرف کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے فرحان ان الفاظ میں نیت کرنے لگے

اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اُرِيْدَ طَوَافَ بَيْتِکَ الْحَرَامِ فَيَسِّرْهُ لِیْ وَتَقَبَّلْهُ مِنِّیْ سَبْعَة اَشْوَاطٍ ِﷲ تَعَالٰی عزّوجل۔

اے اﷲ میں تیرے مقدس گھر کا طواف کرنے کی نیت کرتا ہوں۔ پس تو اسے مجھ پر آسان فرما دے اور میری طرف سے سات چکروں کے (طواف) کو قبول فرما۔ جو محض تجھ یکتا عزوجل کی خوشنودی کے لئے (اختیار کرتا ہوں)۔

طواف کا آغاز اِستِلام یعنی حجرِ اسود کو بوسہ دینا یا اشارے سے چومنے سے کیا جاتا ہے اور طواف کے ہر چکر کے اِختتام پر استلام کیا جاتا ہے ۔ فرحان طواف کی نیت کرنے کے بعد کالی پٹی کے اوپر آئے اور حجر اسود کے مقابل ہو کر کانوں تک ہاتھ اس طرح اُٹھائے کہ ہتھیلیاں حجر اسود کی طرف ہو گئیں اور پڑھنے لگے

بِسْمِ اﷲِ وَالْحَمْدُ ِﷲِ وَاﷲُ اَکْبَرُ وَالصَّلٰوة وَالسَّلاَمُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ

اور ہاتھ چھوڑ دیے، اِستِلام میں اگر ممکن ہو تو حجر اسود کو بوسہ دیا جاتا ہے ورنہ ہاتھوں سے اس کی طرف اشارہ کرکے انہیں بوسہ دیا جاتا ہے اور یہ دُعا پڑھی جاتی ہے

اَللَّہُمَّ اِیْمَانًا بِکَ وَاِتِّبَاعًا لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ

فرحان بھی یہ دُعا پڑھتے ہوئے کعبہ کی طرف بڑھنے لگے۔ اُس کے بعد کالی پٹی پر اِس طرح کھڑے ہوئے کہ کعبۃاللہ اُن کے بائیں کندھے کی طرف ہو گیا اور وہ طواف کی مُندرجہ ذیل دُعا پڑھتے ہوئے رَمل (طواف کے پہلے تین چکروں میں اکڑ کر کندھے ہلاتے ہوئے تیز چال چلنا) کرنے لگے۔ عورتیں رمل نہیں کرتیں بلکہ درمیانی چال چلتی ہیں۔

سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُ ِﷲِ وَلَآ اِلَهٰ اِلاَّ اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قَوَّة اِلاَّ بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِيْمِ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِک وَسَلِّمْ

اگر طواف کی یہ دُعا یاد نہ ہو تو وہ سبحان اﷲ، الحمد اﷲ، اﷲ اکبر،قرآنی یا نبوی دعائیں جو یاد ہوں وہ بھی پڑھ سکتے ہیں یا استغفار ، کلمہ شہادت کا ورد بھی کر سکتے ہیں ۔ فرحان رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان مستحب دُعا

رَبَّنَا اٰتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِیْ الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ

پڑھتے رہے ۔ پہلے تین چکر کے بعد فرحان نے رمل بند کر دیا اور باقی کے چار چکر اُنہوں نے اپنی عام رفتار کے ساتھ مُکمل کیے۔ اس دوران ہر بار کالی پٹی پر پُہنچنے پر وہ اِستِلام کرتے رہے۔ ساتویں چکر کے اِختِتام پر اُنہوں نے آخری اِستِلام کیا اور اضطباع بھی ختم کر دیا یعنی اپنا داھنا کندھا بھی ڈھک لیا۔

سات چکر پورے کرنے کے بعد

وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلّٰی

پڑھتے ہوئے فرحان مقامِ ابراہیمؑ تک آئے اور دو رکعت نماز واجب ادا کی اِس وقت کیوں کہ دن چڑھ چُکا تھا اور سورج نمودار ہو چُکا تھا اِس لیے مقامِ ابراہیم پر زیادہ بھیڑ نہیں تھی اُنہیں آسانی سے وہاں جگہ مِل گئی۔ اِس کے بعد وہ مقامِ مُلتزم کی طرف چل دیے ۔ حجر اسود سے بابِ کعبہ تک کی 8 فُٹ کی دیوار کو مقامِ مُلتزم کہتے ہیں۔ یہ دعا کی قبولیت کا خاص مقام ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں پر بڑی عاجزی سے دیوار سے لپٹ کر دعا مانگتے تھے۔

مقامِ ملتزم پر آہ و بقا کا عجیب منظر تھا جو شاید فرحان علی قادری اپنے ہوش میں پہلی مرتبہ دیکھ رہے تھے ہر کوئی اپنے گِرد و پیش سے بے خبر اپنے رب کو منانے میں مگن تھا کِسی ایک کو دوسرے کی خبر نہ تھی بندے عاجزی کی انتہاؤں پر تھے اور اللہ اپنے فضل و کرم کے خزانے اُن پر نچھاور کر رہا تھا۔ گناہ گاروں کی توبہ منظور و مقبول ہو رہی تھی ۔ بد اعمالیاں نامہ اعمال سے مٹائی جا رہی تھیں اور نیک اعمال جگہ پا رہے تھے گُناہوں کو نیکیوں کے ساتھ تبدیل کیا جا رہا تھا فرحان بھی اسی منظر کا ایک حصہ بن کر مُقامِ مُلتزم سے لپٹ کر دُعا مانگنے لگے۔ آنسوؤں کی جھڑیاں لگ گئیں۔ جیسے کسی رنگ دار کپڑے کو رنگ کاٹ (بلیچ) میں ڈال دیا جائے تو اُس سے رنگ اُترنے لگتا ہے اور وہ جو اصل میں سُفید تھا اور مختلف رنگوں نے اُس سے اُس کی سُفیدی چھین لی تھی واپس سُفید ہونے لگتا ہے جعلی رنگتیں اُس سے دور ہو جاتی ہیں۔ اِ سی طرح فرحان کو محسوس ہونے لگا جیسے مَن دُھل رہا ہے روح روشن و مُنور ہو رہی ہے۔ روح سے ساری آلائشیں اور دُنیاوی کثافتیں دور ہو رہی ہیں روشنی اور نور رگ و پے میں سرایت کر رہا ہے آنسو رنگ کاٹ کا سا کام کر رہے ہیں جیسے جیسے آنسو گرتے ہیں گویا جسم و روح کو سکون مِل رہا ہے آنسو آنکھوں کو نہیں روح کو وضو اور غسل کروا رہے ہیں۔ روح جیسے خوشیاں منا رہی ہے اور جسم روح کے تابع ہو گیا ہے سب گدلاہٹیں دور ہو گئیں آنسو جب صفائی کا کام مُکمل کر چُکے تو اُن کے اُبل اُبل کر گرنے میں ٹھہراؤ آنے لگا ۔ فرحان بھی اپنی دعاؤں کو مُختصر کرنے لگے دل کے سکون سے یہ احساس ہو رہا تھا کہ دعائیں قبول ہو گئی ہیں۔

اس کے بعد فرحان آب زم زم کے پاس آئے اور بسم اللہ پڑھ کر تین سانسوں میں جتنا آبِ زم زم پی سکے پی کر الحمداللہ کہا اور یہ دُعا مانگی

اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ رِزْقًا وَّاسِعًا وَّ عِلْمًا نَافِعًا وَّشِفآءَ مِّنْ کُلِّ دَآءٍ

اے اﷲ میں تجھ سے وسیع رزق اور نفع رساں علم اور ہر ایک بیماری سے شفا کا طلب گار ہوں۔

آبِ زم زم پینے کے فوراً بعد یا پھر تھوڑا سا آرام کرنے کے بعد صفا و مروہ میں سعی کا مرحلہ آتا ہے ، فرحان فوری بعد سعی کے لیے روانہ ہوگئے۔ سعی سے پہلے حجر اسود پر آکر حسبِ سابق استلام کیا اور پھر باب صفا کی جانب روانہ ہوگئے، دل میں سعی کی نیت کی اور زبان سے دعا پڑھنے لگے

اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اُرِيْدُ السَّعْیَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْ وَة سَبْعَة اَشْوَاطِ لِّوَجْهِکَ الْکَرِيْمِ فَيَسّرْهُ لِیْ وَتَقَبَّلْهُ مِنِّیْ

اے اﷲ! میں صفا اور مروہ کے درمیان محض تیری خوشنودی کے لئے سات چکروں سے سعی کرتا ہوں پس اِسے میرے لئے آسان کر دے اور مجھ سے وہ قبول فرما۔

نیت اور دعا سے فارغ ہونے کے بعد خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر ہر چکر کے شروع میں اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کیے جاتے ہیں

بِسْمِ اﷲِ اَﷲُ اَکْبَرُ وَ ِﷲِ الْحَمْدُ

اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں اﷲ سب سے بڑا ہے اور سب تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں۔

صفا و مروہ پر چڑھتے ہوئے یہ دعا کی جاتی ہے

اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَة مِنْ شَعَآئِرِ اﷲِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَاِنَّ اﷲَ شَاکِرٌ عَلِيْمٌ۔ القرآن۔

بے شک صفا اور مروہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ہیں، چنانچہ جو شخص بیت اﷲ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کے (درمیان) چکر لگائے، اور جو شخص اپنی خوشی سے کوئی نیکی کرے تو یقینًا اﷲ (بڑا) قدر شناس (بڑا) خبردار ہے۔

جب صفا یا مروہ سے اتریں تو اترتے وقت یہ دعا کرتے ہیں

اَللّٰهُمَّ اسْتَعْمِلُنْی بِسُنَّة نَبِيِّکَ صلی الله عليه وآله وسلم وَتَوَقَّنِیْ عَلٰی مِلَّتِه وَاَعِذْنِیْ مِنْ مُّضِلاَّتِ الْفِتَنِ بِرَحْمَتِکَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْن

اے اﷲ! مجھے اپنے نبی کی سنت کا تابع بنا دے اور مجھے آپ کے دین پر موت عطا کر اور مجھے اپنی رحمت کے ساتھ گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ دے۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

صفا کی سیڑھیوں سے اترتے ہی سفر کا آغاز مروہ کی طرف شروع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا مروہ کی طرف چلتے ہوئے یہ دعا کرتے ہیں۔

سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُ ِﷲِ وَلاَ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّة اِلاَّ بِاﷲِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ

اﷲ پاک ہے سب تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اﷲ سب سے بڑا ہے نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کی طاقت نہیں، مگر اﷲ کی مدد سے، جو بہت بلند شان اور بڑی عظمت والا ہے۔

اگر مذکورہ دعا کسی کو زبانی یاد نہ ہو تو پھر دیگر اذکار مثلاً سُبْحانَ اﷲَ، اَلْحَمْدُﷲِ، اَﷲُاَکْبَرُ، اَسْتَغْفِرُ اﷲ یا درود شریف کا ورد بھی کر سکتے ہیں۔

فرحان اپنی والدہ کے ہمراہ صفا و مروہ کی دُعائیں پڑھتے ہوئے سعی کرنے لگے اُنہوں نے اپنی والدہ کے آرام کی خاطر اُنہیں وہیل چئیر استعمال کرنے کا مشورہ دیا جِسے اُنہوں نے سختی سے رد کر دیا اور وہ کہنے لگیں کے اللہ پاک نے ٹانگیں دی ہیں میں خود سعی کروں گی فرحان بھی اُن کے شوق اور مُحبت کے سامنے خاموش ہو گئے اور دوبارہ دعائیں پڑھنے لگے۔

سعی کے دوران فرحان کی والدہ حضرت حاجرہؓ کی سعی کی کیفیت اور حالت اپنے ذہن میں دُہرا رہی تھیں کہ کیسے اپنے لاڈلے بیٹے حضرت اسماعیلؑ پیغمبر ابنِ پیغمبرؑ کے لیے پانی اور کسی پناہ گاہ کی تلاش میں دیوانہ واربھاگتی پھری تھیں کہ اللہ پاک کو اُن کی ادا ایسی پسند آئی کہ قیامت تک اس سعی کو دین کے اہم ترین رُکن حج اور اُس کے ساتھ عمرہ کا حصّہ بنا دیا۔وہ سوچ رہی تھیں کہ وہ بھی کیا لمحات تھے کہ والدہ بیٹے کی محبت میں دیوانہ وار بھاگتی رہی تھیں اور آج وہ بیٹے کی محبت کو خاموشی سے پڑھ رہی تھیں کہ جو صرف اپنی والدہ کی وجہ سے تیز قدم نہیں اُٹھا رہا کہ کہیں میری والدہ کو میرے تیز چلنے سے دِقت اور دُشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے وہ ماں کو اپنی رفتار پے چلانے کی بجائے ماں کی رفتار پے چل رہا ہے کہ ماں کا ساتھ بھی نہ چھوٹے اور ماں کو کوئی تکلیف بھی نہ پُہنچنے پائے۔

سعی کے دوران سبز ستونوں کے درمیان اس شرط کے ساتھ تیزی سے چلنا ہوتا ہے کہ تیز چلتے ہوئے دوسروں کے لیے کسی تکلیف کا باعث نہ بنیں باقی جگہوں پر عام رفتار سے چلتے ہیں۔ صفا سے مروہ تک جانے کو ایک چکر اور مروہ سے صفا تک واپس آنے کو دوسرا چکر کہتے ہیں۔ اِس طرح ساتواں چکر مروہ پر آ کر ختم ہوتا ہے۔فرحان ہر پھیرے میں صفا یا مروہ پہنچنے پر ہاتھ اُٹھا کر قبلہ رُخ ہو کر دُعا کرتے رہے ۔ ساتویں پھیرے کے بعد سعی ختم ہو گئی اور آخر میں قبلہ رُخ ہو کر ہاتھ اُٹھا کر دُعا کی کہ یا اللہ اگر کوئی کوتاہی یا کمی رہ گئی ہو تو اُس کو معاف فرما دینا اور ہماری اس سعی اور عمرہ کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمانا۔ ہمارے سب صغیرہ کبیرہ گُناہوں کو معاف کرنا جو ہم نے غلطی سے کیے یا جان بوجھ کر کیے ہم اپنے گُناہوں پر نادِم ہیں میرے مولا تیری بارگاہ میں معافی کے خواستگار ہیں اور تُجھ سے مدد اور نصرت کے طالب ہیں اور بے شک تو بڑا معاف کرنے والا غفور و رحیم ہے۔

اس کے ساتھ ہی عمرہ کے تُمام افعال مُکمل ہو گئے اور فرحان مسجدِ حرم سے باہر آئے اور حلق کروایا یعنی سر کے سارے بال اُتروائے۔ سر کے بال اتروانے کے بعد اُنہیں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اُن کی روح اور جسم ایک دم سے ہلکا ہو گیا ہو اگر کوئی دُنیاوی آلائیشیں بچ بھی گئی تھیں تو اُنہیں بھی جیسے اُس لمحے اُن سے دور کر دیا گیا ہو اور وہ حرم پاک کے کبوتروں کی مانند پاک صاف اور معصوم ہو گئے ہوں۔

اُس کے بعد فرحان اپنی والدہ کے ہمراہ کُچھ دیر آرام کرنے کے لیے اپنے ہوٹل چلے گئے۔

Part-2 (Final Part)

  ظہر کی نماز سے کُچھ پہلے تک ہوٹل میں آرام کرنے کے بعد حرم شریف میں ظہر کی نماز ادا کی دوبارہ عصر کی نماز تک کے لئے ہوٹل میں کُچھ دیر مزید آرام کیا اور پھر عصر اور مغرب کی نماز باجماعت حرمِ پاک میں ادا کی۔ اگلے دن یکم رمضان المبارک اور پہلا روزہ کا اعلان ہو چُکا تھا۔ عشاء کی نماز سے قبل حرم پاک کے جوار میں موجود ایک ریستوران سے رات کا کھانا کھایا۔ عشاء کی نماز کے بعد پہلی نمازِ تراویح حرم شریف کے صحن میں بابِ عبدالعزیز کے قریب ادا کی۔ پھر سحری تک کا وقت وہیں گُزارا ۔ سحری کے لیے دوبارہ ایک قریبی ریستوران سے کھانا کھایا۔ اور فجر کی نماز کے کُچھ دیر بعد اپنے ہوٹل آرام کے لئے چلے گئے۔ اگلا دِن 20 جولائی، یکم رمضان جمعۃالمبارک بھی گزشتہ دن کی روٹین کے مطابق ہی گُزرا نمازِ جمعہ اور نمازِ عصر حرم پاک میں ادا کیں۔ مغرب کی جماعت سے قبل افطار کا انتہائی مُختصر وقفہ ہوتا ہے جس میں وہاں موجود ہزار ہا افراد کی افطاری کا بندوبست کیا جاتا ہے اور سینکڑوں لوگ اس نیک اور بابرکت کام میں خِدمت کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں اور جس طرح چند لمحوں میں دستر خوان سجتا ہے اُسی طرح چند منٹوں کے اندر اندر دستر خوان سمیٹ کر صفائی بھی کر دی جاتی ہے اور یہ سارا عمل اتنے اعلیٰ اور منظم انداز میں ہوتا ہے کہ بے اختیار زُبان پر سُبحان اللہ کا کلمہ آجاتا ہے۔ مُختلف دستر خوانوں پر مُختلف اشیاء خوردونوش ہوتی ہیں۔ کھجور، دہی اور آبِ زم زم تقریباً تمام دسترخوانوں کی زینت بنتے ہیں اِس کے علاوہ بریڈ، دودھ، جوس اور دیگر پھل بھی کُچھ دستر خوانوں پر سجے ہوتے ہیں۔ کھانے کے لیے اکژلوگ نمازِ عشاء سے پہلے یا بعد میں قریبی ریستورانوں میں چلے جاتے ہیں۔

ہم اس بات کا ذکر تو پہلے کر چُکے کہ فرحان کی ہر سال یہ خواہش ہوا کرتی ہے کہ وہ رمضان شریف میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے حاضر ہوں اور 2006 میں اپنا پہلا عمرہ بھی اُنہوں نے رمضان شریف میں ادا کیا۔ آئیے ایک نظر رمضان شریف میں ادا کیے گئے عمرہ کی فضیلت حدیث پاک کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔

حدیث مبارکہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصاری خاتون سے فرمایا کیا وجہ ہے کہ تو نے ہمارے ساتھ حج نہیں کیا؟ اس (عورت) نے کہا : ہمارے پاس ایک پانی بھرنے والا اونٹ تھا۔ اس پر ابو فلاں اور اس کا لڑکا یعنی اس کا شوہر اور بیٹا سوار ہوکر حج کے لئے روانہ ہو گئے اور اپنے پیچھے ایک آب کش اونٹ خاندان کی ضرورت کے لئےچھوڑ گئے (اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی سواری نہیں)۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

فإذا کان رمضان اعتمری فیہ فإن عمرة فی رمضان حجة

جب رمضان آئے تو عمرہ کر لینا کیونکہ رمضان میں عمرہ حج کے برابر ہے۔

بخاری، الصحيح، کتاب العمرة، باب عمرة فی رمضان، 2 : 631، رقم : 1690

اور بخاری شریف کی دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں

حجة مَعِی (بخاری، فضائل المدینۃ رقم: ۱۸۲۶۳)

اس مقام پر اس عورت کا نام بھی اُمّ سنان انصاریہ بیان کیا گیا ہے۔ آپؐ نے اس سے فرمایا

جب رمضان آئے تو اس میں عمرہ کرنا، اس لئے کہ رمضان میں عمرہ کرنا، حج کے یا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا

"ایک کے بعد دوسرا عمرہ درمیانے گناہوں کیلئے کفارہ ہے"

(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

اس درجہ کی فضیلت کے باعث دُنیا بھر سے کثیر تعداد میں لوگ رمضان المبارک کے دوران عمرہ کی ادائیگی کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ اور بسا اوقات مُختلف ممالک میں سعودی سفارت خانے عمرہ کی حاضری کے لئے درخواستیں جمع کرنا عارضی طور پر بند کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں بھی رمضان المبارک کے دوران عمرہ کا ویزہ حاصل کرنے کے لئے کئی مُشکلات سے گُزرنا پڑتا ہے۔ کبھی سفارت خانہ کھلنے کا انتظار اور کبھی عمرہ کمپنیوں کی طرف سے فیسوں میں اضافہ۔ فرحان کی وہ کمسنی کی دُعا ہر جگہ اُن کے کام آتی رہی، سب بند دروازے کُھلتے رہے اورفرحان 21 جولائی دوسرہ روزہ افطار کرنے کے بعد احرام باندھے رمضان المبارک میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ وہ عمرہ جس کی فضیلت سرکارِ دو عالمﷺ کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔ رمضان المبارک کے باعث رش کافی زیادہ تھا اور طواف کے لئے بھی بڑا چکر لگانا پڑتا تھا ۔ یہ عمرہ تقریباً چار گھنٹوں میں مُکمل ہوا اور عمرہ کے دوران نماز ِ عشاء اور تراویح کا وقفہ بھی ہوا۔ عمرہ کے اختتام پر حلق کروایا اور پھر ہوٹل جا کر اپنے کپڑے تبدیل کیے۔

فرحان کا تقریباً روزانہ کا معمول یہی رہا کہ وہ رات میں تراویح کے بعد ایک مُختصر سا چکر ہوٹل آنے سے پہلے وہاں کی مارکیٹ کا بھی لگا آتے اور اگر کوئی چیز پسند آجاتی تو خرید لیتے۔ ورنہ کھانا کھا کر یا ساتھ لے کر واپس آجاتے۔

اگلے دِن صبح 22 جولائی کو فجر کے بعد مدینہ پاک کے لئے روانہ ہونا تھا۔ ایک صدا جو کب سے کانوں میں گونج رہی تھی کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو اُس صدا پر لبیک کہنے کا وقت آگیا تھا۔ فجر کی نمازحرم شریف میں ادا کرنے کے بعدہوٹل میں آ کر اپنا سامان سمیٹا۔ ٹھیک آٹھ بجے کمپنی کی ٹویوٹا ہائی ایس ویگن میں مدینہ پاک کا سفر شروع ہوا راستے میں ظہر کی نماز کے لئے ایک مقام پر کُچھ دیر کا وقفہ ہوا۔

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے کِسی نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے اللہ تعالیٰ نے کلمے میں اپنا نام پہلے رکھا اور اپنے محبوب کا نام بعد میں رکھا مُحبت کا تقاضا تو یہ تھا کہ محبوب کا نام پہلے ہوتا؟ آپؓ نے فرمایا اپنا نام پہلے اس لئے رکھا کہ زُبان پہلے اللہ کا نام لے کر پاک ہو جائے پھر اُس پاک زُبان سے اللہ کے محبوب کا نام ادا ہو۔ اور یہ فارسی کا شعر بھی کیا خوب ہے ؎

ہزار بار بشویم دہن زمشک و گلاب

ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است

اگر میں ہزار بار اپنا منہ عطر اور گُلاب سے دھوؤں یا اُن سے کُلی کر لوں اِس کے باوجود سرکارﷺ کا نام لینا بہت بڑی بے ادبی کی بات ہے۔

جو حکمت اور فلسفہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ کے بارے میں بیان فرمایا وہی حِکمت سرکارﷺ کی بارگاہ میں عمرہ کے بعد حاضری دینے میں ہے کہ عمرہ کے دوران جسم و روح پر جتنی بھی آلائشیں اور میل کُچیل ہو وہ عمرہ کے دوران دُھل چُکا ہو اور جب آقاﷺ کی بارگاہ میں غُلام حاضر ہوں تو تن اور من کی پاکیزگی حاصل کرنے کے بعد حاضر ہوں۔ یہ تو وہ بارگاہ ہے کہ جِس میں حاضری کے آداب اللہ پاک خود سورۃ الحُجُرَات میں سِکھاتا ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

اے ایمان والو! (کسی بھی معاملے میں) اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آگے نہ بڑھا کرو اور اﷲ سے ڈرتے رہو (کہ کہیں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی نہ ہوجائے)، بیشک اﷲ (سب کچھ) سننے والا خوب جاننے والا ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ

اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبیِ مکرّم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہو جائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہو

إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ

بیشک جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں (ادب و نیاز کے باعث) اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اﷲ نے تقوٰی کے لئے چن کر خالص کر لیا ہے۔ ان ہی کے لئے بخشش ہے اور اجرِ عظیم ہے

بارگاہِ رسالت مابﷺ میں حاضری دینے کی وہ گھڑیاں آگئی تھیں جن کا انتظار تھا۔ جِس حاضری کے لئے اپنا دیس اپنا گھر بار اور سب اعزا ء و اقارب کو بُہت دور سمندر پار چھوڑ کے آئے تھے ۔ اور نہ اپنا گھر یاد آتا تھا نہ کوئی اور وطن کی چیز یاد آتی تھی۔ جسم کا وطن دور رہ گیا تھا روح کو اپنے وطن کا ماحول مِل گیا تھا روح کی سرشاریاں دیکھی نہیں جا سکتیں لیکن محسوس ہو رہی تھیں ۔ اُس دربار میں حاضری کے لمحات قریب آرہے تھے جہاں ہر روز 70 ہزار ملائکہ اُترتے ہیں اور اُنہیں صرف ایک دِن کے لیے قربت کی اجازت مِلتی ہے اور اگلے دِن اُتنے ہی ملائکہ مزید آتے ہیں اور گزشتہ روز کے ملائکہ واپس چلے جاتے ہیں اور جو فرشتہ ایک مرتبہ آقاﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے قیامت تک اُس کی باری دوبارہ نہیں آتی۔ اُس دربار میں حاضری کا پروانہ عطا کر دیا گیا تھا اور وہ بھی ایک ، دو یا تین دِنوں کے لئے نہیں بلکہ مُسلسل نو دِنوں کے لئے۔ فرحان کو سمجھ آرہی تھی کی انسان کیوں رشکِ ملائک ہے؟ کہاں ساری عمر دوسری حاضری کی اجازت نہیں مِلتی اور کہاں صرف چھ سال بعد دوبارہ حاضری کی اجازت اور اجازت بھی ایسی کہ واپسی اگلے دن نہیں بلکہ دسویں دن ہونی ہے۔ آج فرحان کو ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ چھ سال جو اُن پر بہت گراں گُزرے تھے اور مُلاقاتِ محبوب ﷺکے درمیان حارج رہے تھے وہ پل بھر میں گُزر گئے ہوں۔ ہجر کی کیفایات دور رہ گئی تھیں اور وصل کی گھڑیاں آ گئی تھیں۔

حاضری کے لئے نِکلنے سے پہلے فرحان نے دوبارہ تازہ وضو کیا اور عصر کی نماز سے قبل مسجدِ نبویﷺ کی طرف سراپا ادب بن کر اپنی والدہ کے ہمراہ چل دیے۔ اُن کے ہوٹل کی سمت سے جو دروازے قریب تھے اُن میں سے گیٹ 25 خواتین کا اور 26 مَردوں کے لئے مخصوص تھا۔ عصر کے وقت رش زیادہ نہیں تھا مغرب کی نماز کے بعد بُہت زیادہ رش ہو جاتا ہے۔ درودِ پاک پڑھتے ہوئے فرحان آقا ﷺ کے قدمین شریفین کی جانب سے سلام کے لئے اِس حالت میں حاضر ہوئے کہ آنکھوں میں اشکِ ندامت اوردِل اس بات سے خوفزدہ کہ کوئی بے ادبی سرزد نہ ہو جائے ۔ اس بارگاہ میں تو بےتاب نگاہی بھی بے ادبی ہے، جہاں حضرت جُنید بغدادیؓ اور حضرت بایزید بسطامیؓ جیسے اکابر اولیا ء بھی اس حال میں حاضر ہوتے ہیں کہ جیسے اُنہوں نے اپنے سانس روک رکھے ہوں اور سانس لینا بھی بے ادبی ہو۔ ایک خاص فرق جو فرحان محسوس کر رہے تھے وہ یہ تھا کی خانہ کعبہ میں انوار و تجلیات کا جو عالم تھا اُس میں ہیبت اور جلال تھا آقاﷺ کی بارگاہ میں جمال اور ٹھنڈک تھی۔ حاضری کے بعد فرحان اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے قدمین شریفین کی طرف ایک جگہ تلاش کر کے بیٹھ گئے اور پھر 31 جولائی تک جتنے دِن بھی مدینہ پاک میں گُزرے اُنہوں نے اپنی روزانہ کی روٹین یہی رکھی کہ نمازوں کے وقفے کے علاوہ حاضری دینے کے بعد وہیں آ کر بیٹھ جاتے درودو سلام کے ہدیے پیش کرتے اور آنکھوں سے آنسو گرتے رہتے۔ فجر کی نماز کے بعد صرف کُچھ دیر سونے کے لئے ہوٹل جاتے۔

فرحان علی قادری کے بہت سے چاہنے والوں اور عشاقانِ مصطفیٰﷺ کو جب یہ معلوم ہوا کہ فرحان عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے آئے ہوئے ہیں تو بہت سے احباب نے اُنہیں اپنے گھروں میں محافل اور افطاری پر مدعو کرنا چاہا لیکن فرحان آقاﷺ کی بارگاہ کی حاضری کا وقت کم نہیں کرنا چاہتے تھے اِس لئے سب سے معذرت اور معافی طلب کرتے رہے۔ فرحان تو پہلے ہی اِس بات سے پریشان تھے کہ مدینہ پاک میں آتے ہی راتیں اتنی چھوٹی کیوں ہو گئی ہیں۔

چھبیس جولائی کو فرحان پہلی مرتبہ مدینہ پاک میں مُختلف زیارات کی حاضری کے لئے گئے اور مسجد قبا جو کہ تاریخِ اسلام کی پہلی مسجد ہے وہاں حاضری دی اور نوافل ادا کیے۔ مسجد قبلتین حاضری دی اور نوافل ادا کیے یہ وہ مسجد ہے جہاں پر نماز کے دوران مُسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس سے تبدیل ہو کر خانہ کعبہ ہو گیا اسی مُناسبت سے اسے مسجد قبلتین یعنی دو قبلوں والی مسجد کہا جاتا ہے۔ اُس کے بعد جبلِ اُحد دیکھا وہ پہاڑ جس کے لئے آقا ﷺ نے فرمایا کہ یہ مُجھ سے محبت کرتا ہے اور میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ میدانِ اُحد جہاں غزوۃ اُحد لڑی گئی وہاں گئے۔ وہ جگہ بھی دیکھی جہاں تیر لگنے سے آقا ﷺ کا دندان مُبارک شہید ہوا۔ اُس جگہ پر فرحان کی آنکھوں میں امام العاشقین حضرت خواجہ اویس قرنی ؓ کی محبت کا وہ منظر گھوم گیا جب اُنہیں معلوم ہوا کہ آقا ﷺ کا دندان مُبارک شہید ہوا ہے تو اُنہوں نے اپنا ایک دانت اُکھاڑ ڈالا۔ پھر خیال گُزرا کہ شاید یہ دانت نہ ہو کوئی دوسرا دانت ہو تو اُس کے ساتھ والا دانت اُکھاڑ ڈالا حتیٰ کہ ایک ایک کر کے سارے دانت اُکھاڑ دیے کہ جو بھی دانت ہو گا وہ بھی اُکھڑ گیا ہو گا۔ اور یہ شعرفرحان کے ذہن میں گردش کرنے لگا ؎

بدلے میں ایک دانت کے توڑے سارے دانت

اُس ایک دانت کا اویسؓ کو کتنا ملال تھا

وہ کنواں دیکھا جسے حضرت عثمان غنیؓ نے خرید کر وقف کر دیا تھا یہ کنواں اب بند کر دیا گیا ہے کُچھ سال قبل تک لوگ اس کنویں کا پانی پی سکتے تھے۔ مسجد حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ میں حاضری دی اور نوافل ادا کیے۔ کجھوروں کی مارکیٹ سے دوست احباب میں تقسیم کرنے کے لئے کھجوریں بھی خریدیں۔

اِس کے علاوہ جنت البقیع کی حاضری مدینہ پاک کے قیام کے دوران روزانہ دیتے رہے خصوصاً سیدہ کائنات حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہ،حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ، حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ، حضرت امام جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے اور دُعا کرتے۔وہ گلی جہاں سے جب آقا ﷺ گزرتے تھے اور ایک یہودی عورت آپ پر کوڑا پھینکا کرتی تھی اور جب وہ بیمار ہوئی تو آپﷺ اُس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ وہ گلی بہشتی گلی کے نام سے جانی جاتی ہے اُس گلی میں سے فرحان کا روزانہ گُزر ہوتا ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کی جائے پیدائش دیکھی۔ یہ ساری حاضریاں فرحان نے سید عاشق علی شاہ گیلانی صاحب کے ساتھ تھیں اور وہی ساری تفصیلات بھی بتاتے رہے۔

مسجدِ نبوی کے قریب ہزارہا کبوتر ہوتے ہیں اور لوگ اُنہیں دانہ ڈالتے رہتے ہیں کون جانے کبوتروں کے روپ میں کون کون سی ہستیاں وہاں آقاﷺ کی غُلامی میں پڑی رہتی ہیں۔ فرحان نے کُچھ تصاویر فجر کی نماز کے بعدہوٹل واپس آتے ہوئے اُن کبوتروں کے ساتھ بنوائیں۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ روضہ پاک کی جالیوں سے کُچھ ہٹ کر زمین میں ایک اور دیوار گزشتہ کُچھ سالوں سے لگا دی گئی ہے تاکہ لوگ دھکم پیل نہ کریں اور جالیوں کو نہ چھُو سکیں اور پہرے دار جالیوں اور اُس دیوار کے درمیان ڈیوٹی دیتے ہیں۔ جِس دن سے فرحان مدینہ پاک میں حاضر تھے اُس دن سے اُ ن کی خواہش تھی کی وہ اُس چھوٹی دیوار اور سُنہری جالیوں کے درمیان نوافل ادا کریں۔ اور اس کا موقع اُنہیں 27 جولائی کو مِل ہی گیا اُس وقت ریاض الجنہ والی سمت میں کوئی پہرے دار موجود نہ تھا تو فرحان نے موقع غنیمت جانتے ہوئے بھر پور فائدہ اُٹھایا اور جالیوں اور اُس چھوٹی دیوار کے درمیان موجود جگہ پر نوافل ادا کیے۔ خانہ کعبہ میں تو جنت کا صرف ایک پتھر ہے حجرِ اسود اور مدینہ پاک میں تو جنت کا ایسا ٹُکڑا ہے جس پر خود جنت بھی رشک کرتی ہے جو ٹُکڑا آقاﷺ کی حیاتِ ظاہری میں بھی اُن کا مسکن رہا اور آج بھی اُن کی آرام گاہ ہے۔ اُسی جنت کے ٹکڑے پر فرحان بھی نوافل پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے رہے۔

فرحان علی جتنے دن بھی مکہ معظمہ اور مدینہ پاک میں رہے وہ ہمیشہ ہر دُعا میں دُنیا بھر میں موجود اپنے فینز، ویب سائٹ کے وزیٹرز اور فورم کے تمام ممبرز کے لئے دُعا ضرور کرتے۔ اکثر فینز کے پیغامات اُن تک پُہنچائے جاتے رہے۔ اس کے علاوہ وہ اُن سب کے لئے بھی دعا کرتے جو اُن تک اپنے پیغام نہ پہنچا سکے ۔ آقا ﷺ معراج کے وقت اپنی اُمت کو نہیں بھولے تھے تو فرحان آقا ﷺ کی بارگاہ میں آقا کی نسبت کی وجہ سے اُن سے مُحبت کرنے والوں کو کیوں کر بُھلا دیتے۔

فرحان کے لیے عمرہ کے سفر کے چند ایک خاص واقعات میں سے 28 جولائی کا وادی بیضا ء کا سفر بھی تھا۔ یہ وادئِ جن کے نام سے بھی موسوم ہے اور اِس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پر کوئی بھی گاڑی خواہ وہ کار ہو، ویگن یا بڑی بس وہ بند انجن کے ساتھ انتہائی تیزرفتار کے ساتھ خود بخود چلنے لگتی ہے۔ وہاں سے گُزرنے والے سب لوگ گاڑی کو نیوٹرل کر کے انجن بند کر دیتے ہیں اور جیسے ہی بریک سے پاؤں ہٹائیں گاڑی تیز رفتار سے چلنا شروع کر دیتی ہے یہاں تک کے اُس کی رفتار 100 اور 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے اور بریک لگا کر گاڑی کو روکنا پڑتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر گاڑی کو راستے میں موجود کسی انچائی سے پہلے بھی روک دیں تو وہ اونچائی بھی چڑھتی ہے اور اونچائی پر اگر آپ پانی گرائیں تو وہ پانی ڈھلوان کی طرف جانے کی بجائے اونچائی کی سمت جاتا ہے۔ سُبحان اللہ۔ اس پر دُنیا کے مختلف ٹی وی چینلز بشمول پاکستان کے جیو ٹی وی ڈاکومنٹری موویز دِکھا چُکے ہیں۔ اس کی حقیقی وجہ تو اللہ اور اُس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں لیکن دو روایات زیادہ مشہور ہیں۔ پہلی روایت کے مطابق آقا کریمﷺ کی بارگاہ میں کوئی سائل حاضر ہوا اور کسی بیماری کے علاج کے طور پر آقاﷺ نے اپنی اونٹنی اُس شخص کے ساتھ کر دی کہ اِس اونٹنی کا دودھ پینا تو صحت یاب ہو جاؤ گے۔ وہ اونٹنی آقاﷺ کے حُکم پر چلی تو گئی لیکن آپ کے ہجر کو برداشت نہ کر پائی اور آخر کار حجر و فراق میں تڑپتے ہوئے آقاﷺ کے دیدار کی خاطر مسجدِ نبویﷺ کی سمت دیوانہ وار بھاگ کھڑی ہوئی اور اللہ پاک نے اُس کی محبت کی خاطر اُس جگہ کی زمین کو سمیٹ دیا تاکہ وہ جلد از جلد اپنا سفر مُکمل کر لے اسی وجہ سے جس سمت وہ اونٹنی بھاگی صرف اُس سمت سفر کریں تو گاڑی خود بخود چلتی ہے دوسری سمت نہیں چلتی۔ دوسری روایت کے مطابق ایک کافر نے آقاﷺ سے معجزہ طلب کیا کہ اگر آپ ﷺ اللہ کے نبیؐ اور رسولؐ ہیں تو فُلاں درخت کو اپنے پاس بلا کر دکھایں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ اور اُس درخت کو کہو کہ اللہ کے رسولﷺ نے تمھیں بُلایا ہے اور ہاتھ سے اُس درخت کی سمت اشارہ کیا ۔ آپﷺ کے اشارہ کرنے کی دیر تھی وہ درخت اپنی جڑوں سمیت زمین کو چیرتا ہوا آپ کے قدموں میں آکر سجدہ ریز ہو گیا اور وہ کافر آپﷺ کا یہ معجزہ دیکھ کر کلمہ پڑھ کر آپ پر ایمان لے آیا ۔اس روایت کے مطابق گاڑی اُس سمت کو تیز چلتی ہے جس سمت آقا ﷺ اُس وقت موجود تھے اور درخت نے زمین پھاڑتے ہوئے آپؐ کی سمت سفر کیا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس وادی کی بُہت سی ویڈیوز یوٹیوب پر بھی دیکھی جا سکتی ہیں اور جو قارئین خود حاضری کے لئے جا چُکے ہیں اُن میں سے اکثر کا ذاتی مُشاہدہ بھی ہو گا۔

مسجدِ نبویؐ میں تقریباً ہر نماز کے وقت دو یا تین جنازے اُٹھتے ہیں اور اُن خوش نصیبوں کو جنت البقیع میں دفن کیا جاتا ہے۔ فرحان ہر جنازے کے وقت سوچتے کہ کاش یہ میرا جنازہ ہوتا کبھی دعا کرتے کہ مولا میرا جنازہ بھی ایسے ہی مسجدِ نبویؐ سے اُٹھے اور جنت البقیع میں تدفین ہو۔

آخر کار روانگی کی گھڑیاں قریب آنے لگیں گنتی دِنوں کی بجائے گھنٹوں میں سمٹ گئی 30 جولائی کی صُبح فجر کے بعد ہوٹل میں جاکر تھوڑی دیر آرام کیا آج فرحان زیادہ سے زیادہ وقت آقاﷺ کی بارگاہ میں ہی گُزارنا چاہتے تھے کیوں کہ آج رات آخری حاضری ہونی تھی اور کل فجر کے بعد آکر آرام نہیں کرنا تھا بلکہ واپس مکہ معظمہ روانہ ہونا تھا۔ کُچھ دیر آرام کے بعد ظہر کے قریب دوبارہ فرحان سرکارﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے اور درودِ پاک کے نزرانے پیش کرتے رہے۔ تراویح کے بعد آقاﷺ کے قدمین شریفین کی طرف آ کر بیٹھ گئے۔ آج بار بار یہی خیال ستا رہا تھا کہ کل رات میں یہاں حاضری نہ دے پاؤں گا۔ اور آج اُن کی خواہش تھی کی یہ رات اتنی لمبی ہو جائے کہ اِس کی کبھی صُبح نہ ہو۔ لیکن وقت گُزرتا جا رہا تھا سحری کی سُنت پوری کرنے کی خاطر چند لمحات کے لئے اُٹھ کر باہر آئے اور آخری فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد الوادعی سلام عرض کیا اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ ہوٹل کی طرف چل پڑے۔ عشاق جب آقا کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں تو شدتِ جذبات سے رونے لگتے ہیں اور جب بچھڑنے کا لمحہ آتا ہے تو ہجر کے کرب کے تصور سے پھر رونے لگتے ہیں کون جانے یہاں سے جانے کے بعد پھر آنا نصیب ہو یا نہ ہو۔ کسے معلوم باہر موت انتظار میں کھڑی ہو اور کِسے معلوم کہ اگلی مرتبہ بُلاوہ آنے میں کتنے دِن بیت جائیں؎

عشق جنہاں دی ہڈی رچیا، بس رونا کم اُناہاں

مِلدے وی روندے تے وچھڑے وی روندے ، روندے ٹُردے راہاں

آقا ﷺ کی بارگاہ میں الوادعی سلام پیش کرنے کے بعد فرحان کا دِل ہوٹل واپس جانےکو نہیں چاہ رہا تھا آنکھیں تھیں کہ چھلک جانے کا بہانہ تلاش کر رہی تھیں۔ اس کیفیت میں اُس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب وہ ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوئے تو اپنی والدہ مُحترمہ کو چیزیں سمیٹتے دیکھا۔ تو وہ آنکھیں جو کسی بہانے کی تلاش میں تھیں اُن کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیابچھڑنے کے احساس کا کرب ضبط پر حاوی ہو گیا اور آنسو تیزی سے چہرے پراپنا راستہ بناتے ہوئے قمیض کے دامن میں چُھپنے لگے۔ وہ اپنی والدہ سے آنکھیں چُھپا کر واش روم کی طرف چل دیے تاکہ اُن کی والدہ اُنکی آنکھوں میں آنسو نہ دیکھ سکیں اور وہ آنکھوں کے راستے جتنا درد بہا سکتے ہیں بہا دیں۔ لیکن اُنہیں اس بات کی خبر نہ تھی کہ وہ تو خود مدینے والی سرکارﷺ سے بچھڑنے کے تصور سے آبدیدہ ہیں اور فرحان کے قدموں کی آہٹ پر اپنا چہرہ دوسری سمت کر کے چیزیں سمیٹ رہی ہیں تاکہ فرحان اپنی ماں کی آنکھوں میں آنسو نہ دیکھنے پائیں۔  

تڑپ اُٹھے گا یہ دل یا دھڑکنا بھول جائے گا

دلِ بسمل کا اس در پر تماشہ ہم بھی دیکھیں گے

ادب سے ہاتھ باندھے اُن کے روضے پر کھڑے ہوں گے

سنہری جالیوں کا یوں نظارہ ہم بھی دیکھیں گے

ان دو شعروں میں بیان کی گئی کیفیات تو اتنے دِن بیتتی رہی تھیں اب وہ سراپا اداسی اِس شعر کی تصویر بنے کھڑے تھے

دمِ رُخصت قدم من بھر کے ہیں محسوس کرتے ہیں

کسے ہے جا کے لوٹ آنے کا یارا ہم بھی دیکھیں گے

قدم من بھر کے ہو چُکے تھے نیچے ہوٹل کی لابی تک جانا اور گاڑی میں سامان رکھنا ایک نا ممکن کام نظر آتا تھا۔ لوٹ کے جانے کا یارا نہ تھا لیکن وہیں رہ جائیں ایسا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔

جولائی کا آخری دِن صُبح کے 8 بجے ایک مرتبہ پھر کمپنی کی گاڑی میں مکہ معظمہ کا سفر شروع ہوا راستے میں مقامِ میقات پر دوبارہ عمرہ کی نیت کی اور احرام باندھنے کے بعد نوافل ادا کیے اور گاڑی دوبارہ حرمِ مکہ کی طرف روانہ ہو گئی۔ اِس مرتبہ سفر تقریباً چار گھنٹوں میں مُکمل ہوا۔ ہوٹل میں جا کر سامان رکھا تازہ وضو کیا اور فوراً تیسرے عمرہ کی ادائیگی کے لیے اپنی والدہ کے ہمراہ حرم پاک کی طرف چل دیے۔ اس مرتبہ اُنہیں رہائش کے لئے جو ہوٹل مِلا تھا وہ پہلی مرتبہ والے ہوٹل کی نسبت مسجدِ حرم کے زیادہ نزدیک تھا۔تقریباً چار گھنٹوں میں عمرہ مکمل کیا۔ ظہر اور عصر کی نماز بھی حرم پاک میں ہی ادا کی۔ عمرہ مُکمل کرنے کے بعد افطار تک حرمِ پاک میں رہے۔ مغرب کی نماز کے بعد باہر آکر حلق کروایا ۔ اور کپڑے تبدیل کرنے کے لئے ہوٹل چلے گئے۔ ہوٹل میں تھوڑی دیر آرام کیا پھر باہر ریستوران سے کھانا کھا کر دوبارہ حرم پاک میں آگئے۔ حرم شریف میں تازہ وضو کیا اور عشاء اور تراویح کی نماز کے بعد دوبارہ آرام کرنے کے لئے ہوٹل آگئے۔ سحری سے قبل فرحان باہر سے سحری کا سامان لے آئے اور سحری ہوٹل میں کرنے کے بعد فجر سے پہلے حرم شریف میں پُہنچ گئے۔

جب وہ حرم شریف کی حاضری کے لئے آئے تو عجیب کیفیت کا شکار تھے ۔ ایسے لگ رہا تھا کہ وہ بہت سی باتیں سوچ کر اس سفر پر آئے تھے لیکن کہ نہیں پا رہے۔ بہت سی دعائیں سوچ رکھی تھیں لیکن مانگ نہیں پائے۔ بُہت نادم تھے لیکن ندامت کا اظہار نہیں کر پائے۔ توبہ کرنے آئے تھے لیکن توبہ کرنہیں پائے۔ اِسی کیفیت میں کبھی ڈوبتے تھے اور کبھی اُبھرتے تھے اور نگاہیں بیت اللہ پر جمی ہوئی تھیں ۔ پھر اچانک دِل بھر آیا اور وہ ارد گرد کے ماحول سے بے پرواہ ہو کر یکدم سجدے میں گِر گئے اور بِلک بِلک کر دعائیں اور معافیاں مانگنے لگے۔ کافی طویل سجدے اور بہت سی اِلتجاؤں کے بعد دِل پُر سکون ہو گیا۔

یکم اگست کی صبح فجر کی نماز کے بعد فرحان علی قادری مُختلف زیارات کے لئے گئے ۔ سب سے پہلے غارِ حرا کی زیارت کی پھر میدان عرفات جہاں حج کا خطبہ ہوتا ہے وہاں کی زیارت کی۔ اُس کے بعد مزدلفة کی زیارت کی جہاں حاجیوں کے کیمپ لگتے ہیں اور رات کا قیام ہوتا ہے۔ وہاں پر قریب ہی منیٰ ہے جہاں جمرات ہے جدھر حج کے دوران شیطان کو پتھر مارے جاتے ہیں۔ اُس کے بعد جبلِ رحمت کی زیارت کی۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت آدم ؑ کی حضرت بی بی حواؑ سے پہلی مُلاقات ہوئی تھی۔ اُس کے بعد غارِ ثور کی زیارت کے لئے گئے۔ جہاں پر آقا ﷺ پر وحی نازل ہوا کرتی تھی۔ اور پھر اُس دِن کی آخری زیارت کے لئے مسجدِ جن گئے جہاں پر آقا کریمﷺ جِنات کی امامت فرماتے تھے۔ آپ کے ذوق کی تسکین کی خاطر تصویری جھلکیاں بھی اِس رپورٹ کی زینت بنائی گئی ہیں۔ پھر ظہر کی نماز سے پہلے تازہ وضو کیا اور حرم شریف روانہ ہو گئے۔ ظہر اور عصر کی نماز کے درمیان تھوڑی دیر ہوٹل میں آرام کیا ۔ پھر عصر سے مغرب تک حرم پاک میں ہی رہے ۔ ساری رات بھی وہیں گُزاری کیونکہ یہ اُن کی مکہ معظمہ میں آخری رات تھی اگلی رات کو جدہ سے روانگی تھی۔ اس لئے فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد ہی تھوڑی دیر آرام کے لئے ہوٹل آئے۔

فرحان عمرہ کی ادائیگی کے دوران استلام کے وقت حجرِ اسود کو ایک مرتبہ بھی بوسہ نہیں دے پائے تھے بلکہ ہر مرتبہ اشارے سے ہی اِستلام کرتے رہے تھے۔اب اُن کی خواہش تھی کہ وہ جانے سے پہلے ایک مرتبہ حجرِ اسود کو بوسہ دے لیں۔ عاشقوں کے رنگ نِرالے ہوتے ہیں اُن کی باتیں عقل والوں کی سمجھ میں کم آتی ہیں دِل اور محبت والوں کی سمجھ میں زیادہ آتی ہیں۔ عشاقانِ مصطفیٰﷺ پہروں بیٹھ کر چاند کو تکتے رہتے ہیں کہ اُن کے نزدیک دُنیا میں چاند ہی ایک واحد ایسی چیز ہے جس کے بارے میں وہ وثوق سے کہ سکتے ہیں کہ آقاﷺ نے چاند کو دیکھا اور چاند نے اُنہیں دیکھا۔ اور یہ ہر مقام سے دِکھائی بھی دیتا ہے۔ آج کے دور میں بھی ایسے عشاق ہیں جو پوری پوری رات چاند کو صرف اِسی نیت سے تکا کرتے ہیں ۔ جِن کے سامنے آقا ﷺ کا ذکر چھڑ جائے تو اُن کی آنکھیں برسنے لگتی ہیں۔ اور اِس وقت وہ واحد چیز جِس کے بارے میں وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ سرکارﷺ نے اِسے نہ صرف چھُوا ہے بلکہ اپنے مُبارک ہونٹوں سے بوسہ بھی دیا ہے حجرِ اسود ہے۔ جنت سے آیا وہ مُبارک پتھر جسے آپﷺ نے سرادارنِ قریش کا جھگڑا مِٹانے کی خاطر ایک چادر میں رکھا اور سب سرداروں نے اُسے بیک وقت اُٹھایا اور پھر آپﷺ نے اپنے ہاتھوں سے اُٹھا کر دیوارِ کعبہ میں نصب کیا۔ وہ حجرِ اسود جِسے کُل صحابہؓ، تابعین اور تبع تابعین نے بوسہ دیا۔ وہ حجرِ اسود جِسے مُخاطب کر کے حضرت عمرِ فاروق ؓ فرمانے لگے کہ میں تُجھے صرف اس لئے بوسہ دے رہا ہوں کہ میرے آقاﷺ نے تُجھے بوسہ دیا ہے۔ حجرِ اسود کی یہ سب نسبتیں کب سے فرحان کو بے چین کیے دے رہی تھیں آخر کار وہ اِس دُعا کے ساتھ بوسہ دینے کی نیت سے روانہ ہوئے کہ مولا آسانی پیدا فرمانا اور میری وجہ سے کسی کو تکلیف نہ ہونے دینا۔ فرحان کے ارد گرد کافی لمبے قد کے سیاہ فام حبشی چل رہے تھے کہ اگر وہ صرف ایک ہاتھ سے فرحان کو ہلکا سا دھکا بھی دے دیں تو فرحان قطار سے بہت دور پُہنچ جائیں لیکن ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ در اصل فرحان کی آسانی کی دعا کی قبولیت کا روپ دھار کر انہیں اپنی حفاظت میں حجرِ اسود کا بوسہ دِلانے لے جا رہے ہیں۔ بغیر کِسی بھی دھکم پیل کے فرحان حجرِ اسود تک پہنچ گئے اور وہا ں پر کِسی کو دو یا تین سیکنڈ سے زیادہ نہیں رُکنے دیتے فوراً پیچھے سے لوگ کھینچ کر پرے ہٹا دیتے ہیں لیکن جب فرحان کی باری آئی تو اُنہوں نے تقریباً تیس ، چالیس سیکنڈ بوسے دیے اپنا چہرہ اور ہاتھ بھی خوب مَلے اور خود سائیڈ پر ہو گئے۔ ریاض الجنہ سے دوری کا کرب جنت کے اِس بابرکت پتھر نے کم کر دیا تھا اور خصوصاً اِس بات کا اِحساس کہ یہ وہ پتھر ہے جِسے آقاﷺ نے بوسہ دیا ہے بہت ہی روح کو تقویت بخشنے والا تھا۔

اگست کی 3 تاریخ نمازِ جمعہ کے بعد جدہ روانہ ہونا تھا اور وہاں سے رات گئے پاکستان کے لئے پرواز کرنا تھا۔ فرحان نمازِ جمعہ کے بعد الوادعی حاضری کے لئے خانہ کعبہ کے سامنے اِس حالت میں آکر کھڑے ہوگئے کہ اُنکی نگاہیں ندامت سے جھُکی ہوئی تھیں، قلب جلال الہٰی سے کانپ رہا تھا ، کپکپاتے ہونٹوں اور بھیگی پلکوں کے ساتھ لرزتی آواز میں مُناجات کر رہے تھے کہ یا اللہ تیرے در پے آپڑے ہیں تُجھ سے مدد اور معافی کے طالب ہیں اور بے شک تو ہی سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والا ہے۔ تو ہمارے گُناہوں کو معاف فرما دے تُجھے تیرے حبیبﷺ کا واسطہ ہمارے ساتھ فضل والا معاملہ رَکھ ہمارے گُناہوں سے در گُزر فرما۔ دُعا کے دوران آنکھوں نے برسنا شروع کر دیا تھا۔ توبہ و استغفار کے سبھی تقاضے پورے ہو رہے تھے اور دِل میں رحمتِ حق پر پختہ یقین ہو تو یہ کیسے مُمکن ہے کہ کوئی ربِ کریم سے معافی مانگے اور وہ معاف نہ کرے کوئی اُس سے کرم کی بھیک مانگے اور وہ عطا نہ کرے، اُس کی رحمت پر یقینِ کامل رکھے اور وہ رحم نہ فرمائے۔ سب میل کُچیل دُھل رہا تھا ۔ چہرہ نِکھر رہا تھا۔ دل جو ہیبت زدہ تھا پُر سکون ہوتا جا رہا تھا اور یہ سب اس بات کا غماز تھا کہ حاضری قبول ہو گئی ہے اور دھیرے دھیرے بے قراری کی جگہ قرار اور سکون نے لے لی۔ فرحان نہ چاہتے ہوئے بھی لوٹنے پر مجبور ہو گئے ۔جُدائی اگلی مُلاقات کی پہلی سیڑھی جو ٹھہری۔ وہ آہستہ آہستہ بے جان سے قدموں کے ساتھ باہر جانے کے راستے پر قدم اٹھانے لگے۔

رات ساڑھے دس کے قریب اُن کا جہاز جدہ سے کراچی کے لئے روانہ ہوا اور صبح سحری کے وقت وہ کراچی ائیر پورٹ پہنچے پھر شام کو وہاں سے سکھر ائیر پورٹ کے لیے مقامی جہاز میں سوار ہوئے اور رات گئے واپس اپنے گھر جیکب آباد پہنچے۔ تھوڑی دیر گھر والوں کے ساتھ بیٹھنے کے بعد آرام کرنے کا کہ کر سونے کے لئے چلدیے کہ آج کی رات حرم شریف تو نہیں جا سکتے شاید کرم ہو جائے اور خواب میں ہی حرمین شریفین کا منظر دیکھنے کو مِل جائے۔


Copyright © 2007 - 2017 - Powered by Net is Host